Skip to main content

"ایشیا میں سلطنتوں کا ارتقاء: 5000 قبل مسیح سے 2025 عیسوی تک"

ایشیا کی تاریخ: مختلف خطوں کا مجموعی احوال کوئٹہ: ایشیا کی تاریخ کو کئی مخصوص ساحلی خطوں کی مشترکہ تاریخ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جن میں مشرقی ایشیا، جنوبی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا اور مشرق وسطیٰ شامل ہیں۔ یہ تمام خطے یوریشین سٹیپ کے اندرونی وسیع و عریض حصے سے جڑے ہوئے ہیں۔ تاریخی ماہرین کے مطابق، ان خطوں کی تاریخ کو الگ الگ مگر باہم منسلک انداز میں سمجھنا ضروری ہے۔ ہر خطے نے اپنے منفرد ثقافتی، سیاسی اور سماجی ارتقاء سے ایشیا کی مجموعی تاریخ کو تشکیل دیا ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے، مشرق وسطیٰ کی تاریخ اور برصغیر کی تاریخ کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ خطے اپنے اندر تہذیبوں، سلطنتوں اور مذاہب کے عروج و زوال کی کہانیاں سمیٹے ہوئے ہیں، جو ایشیا کے وسیع تاریخی پس منظر کو مزید گہرا کرتی ہیں۔ مزید معلومعات جانیے کے لیے ویڈیو دیکھے !

پشاور خود کش دھماکے میں ملوث 3 ملزمان کی شناخت ہو گئی: شیخ رشید

 وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے دعویٰ کیا ہے کہ پشاور خود کش دھماکے میں ملوث تینوں ملزمان کی شناخت ہو چکی ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ خیبر پختون خوا پولیس معاملے کی تہہ تک پہنچ چکی ہے، ایک دو روز میں پولیس ملزمان تک پہنچ جائے گی۔

سیاسی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریکِ عدم اعتماد سے متعلق اجلاس بلانے کی ریکوزیشن ابھی تک موصول نہیں ہوئی ہے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ ریکوزیشن موصول ہونے کے 14 دن کے اندر اسپیکر قومی اسمبلی اجلاس طلب کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن کو پہلے بھی شکست ہوئی تھی، اب بھی ہو گی۔

’’نواز شریف کے پاسپورٹ کی درخواست نہیں ملی‘‘

شیخ رشید کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزارتِ داخلہ کو نواز شریف کے پاسپورٹ کی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔

پشاور خود کش حملے کے مزید 6 زخمی انتقال کر گئے

واضح رہے کہ گزشتہ روز خیبر پختون خوا کے دارالخلافہ پشاور کے علاقے قصہ خوانی بازار کی جامع مسجد کوچہ رسالدار میں ہوئے خود کش حملے کے مزید 6 زخمی انتقال کر گئے۔

لیڈی ریڈنگ اسپتال میں گزشتہ روز 57 افراد کی میتیں لائی گئی تھیں، واقعے میں مزید 6 افراد کے انتقال کے بعد شہید افراد کی تعداد 63 ہو گئی ہے۔

واقعے میں 200 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے جن میں سے 37 زخمی زیرِ علاج ہیں، جبکہ 5 زخمی آئی سی یو میں ہیں۔

خود کش حملہ آور کے خاکے تیار

دوسری جانب ایس ایس پی آپریشنز ہارون رشید نے ’جیو نیوز‘ سے گفتگو میں بتایا کہ خود کش حملہ آور کے خاکے تیار کر لیے گئے ہیں۔

ایس ایس پی آپریشنز کا یہ بھی کہنا ہے کہ مذکورہ خود کش حملہ آور کے جسم کے اعضاء بھی اکٹھے کر لیے گئے ہیں۔

خودکش حملے کا مقدمہ درج

پشاور کی مسجد میں ہوئے خود کش دھماکے کا مقدمہ محکمۂ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے تھانے میں درج کر لیا گیا۔

پولیس کے مطابق مقدمہ دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔

پنجاب میں سیکیورٹی ہائی الرٹ

ادھر پشاور کی مسجد میں نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش حملے کے بعد آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان نے پنجاب بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان کی جانب سے آر پی اوز اور ڈی پی اوز کو حساس مقامات اور اہم تنصیبات کی سیکیورٹی بڑھانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اہم مذہبی اور عوامی مقامات کے سیکیورٹی پلانز کا از سرِ نو جائزہ لیا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ تمام اضلاع میں سرچ اور سوئپ آپریشنز میں مزید تیزی لائی جائے، رات کے اوقات میں پیٹرولنگ میں اضافہ کیا جائے، صوبے بھر میں بین الصوبائی اور بین الاضلائی چیک پوسٹوں پر چیکنگ کا عمل مزید مؤثر بنایا جائے۔

خودکش بمبار نے منبر کے سامنے خود کو اڑایا

واضح رہے کہ گزشتہ روز پشاور کی جامع مسجد میں نمازِ جمعہ کے دوران سیاہ لباس میں ملبوس خودکش بمبار نے پہلے سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی پھر منبر کے سامنے آ کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔

Comments

Popular posts from this blog

History of Rajpoot/Rajput caste in Urdu/Hindi | راجپوت قوم کی تاریخ /राजपूत का इतिहास |

(Rajput Cast): A Rajput (from Sanskrit raja-putra, "son of a king") is a caste from the Indian subcontinent. The term Rajput covers various patrilineal clans historically associated with warriorhood: several clans claim Rajput status, although not all claims are universally accepted. The term "Rajput" acquired its present meaning only in the 16th century, although it is also anachronistically used to describe the earlier lineages that emerged in northern India from 6th century onwards. In the 11th century, the term "rajaputra" appeared as a non-hereditary designation for royal officials. Gradually, the Rajputs emerged as a social class comprising people from a variety of ethnic and geographical backgrounds. During the 16th and 17th centuries, the membership of this class became largely hereditary, although new claims to Rajput status continued to be made in the later centuries. Several Rajput-ruled kingdoms played a significant role in many regions of...

History of Awan Cast (اعوان قوم کی تاریخ ) In Urdu/Hindi

(Awan Cast): Awan (Urdu: اعوان‎) is a tribe living predominantly in northern, central, and western parts of Pakistani Punjab, with significant numbers also residing in Khyber Pakhtunkhwa, Azad Kashmir and to a lesser extent in Sindh and Balochistan. A People of the Awan community have a strong presence in the Pakistani Armyneed quotation to verify] and have a strong martial tradition.Christophe Jaffrelot says: The Awan deserve close attention, because of their historical importance and, above all, because they settled in the west, right up to the edge of Baluchi and Pashtun territory. [Tribal] Legend has it that their origins go back to Imam Ali and his second wife, Hanafiya. Historians describe them as valiant warriors and farmers who imposed their supremacy on their close kin the Janjuas in part of the Salt Range, and established large colonies all along the Indus to Sind, and a densely populated centre not far from Lahore . For More Details click the link & Watch the vide...

بلوچستان میں زمینی بندوبست اور ڈیجیٹل ریکارڈ: حکومت کی فوری توجہ درکار

  تحریر: صاحبزادہ عتیق اللہ خان  بلوچستان، جو پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، کئی دہائیوں سے بنیادی انتظامی مسائل کا شکار ہے۔ ان میں سب سے سنگین مسئلہ زمینی بندوبست (Land Settlement) اور اس کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن ہے، جس کی عدم موجودگی نہ صرف عوامی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ صوبے کی ترقی میں بھی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔برطانوی دورِ حکومت میں ہر 25 سال بعد زمینوں کی پیمائش، ملکیت کا تعین، اور مردم شماری کے تحت انتخابی حلقہ بندیوں کا نظام موجود تھا، مگر آزادی کے بعد اس عمل میں شدید کوتاہی برتی گئی۔ بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں گزشتہ 75 سالوں سے زمینوں کا کوئی بندوبست نہیں ہوا، جبکہ جو علاقے بندوبست کے عمل سے گزرے، ان کی تجدید بھی نہیں کی گئی۔یہ صورتحال حکومتی پالیسیوں اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور بورڈ آف ریونیو کے وزیر میر عامر گردگیلو کو فوری طور پر اس مسئلے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ بلوچستان کے زمینوں کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل کیا جائے اور بندوبست کا کام مکمل ہو۔ زمینی بندوبست میں تاخیر کے اثرات 1. عوامی مسائل * زمی...