Skip to main content

"ایشیا میں سلطنتوں کا ارتقاء: 5000 قبل مسیح سے 2025 عیسوی تک"

ایشیا کی تاریخ: مختلف خطوں کا مجموعی احوال کوئٹہ: ایشیا کی تاریخ کو کئی مخصوص ساحلی خطوں کی مشترکہ تاریخ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جن میں مشرقی ایشیا، جنوبی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا اور مشرق وسطیٰ شامل ہیں۔ یہ تمام خطے یوریشین سٹیپ کے اندرونی وسیع و عریض حصے سے جڑے ہوئے ہیں۔ تاریخی ماہرین کے مطابق، ان خطوں کی تاریخ کو الگ الگ مگر باہم منسلک انداز میں سمجھنا ضروری ہے۔ ہر خطے نے اپنے منفرد ثقافتی، سیاسی اور سماجی ارتقاء سے ایشیا کی مجموعی تاریخ کو تشکیل دیا ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے، مشرق وسطیٰ کی تاریخ اور برصغیر کی تاریخ کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ خطے اپنے اندر تہذیبوں، سلطنتوں اور مذاہب کے عروج و زوال کی کہانیاں سمیٹے ہوئے ہیں، جو ایشیا کے وسیع تاریخی پس منظر کو مزید گہرا کرتی ہیں۔ مزید معلومعات جانیے کے لیے ویڈیو دیکھے !

مبینہ حملہ آور نے عمران خان پر فائرنگ کرنے کی وجہ بتادی

 

مبینہ حملہ آور - فوٹو: اسکرین گریب
مبینہ حملہ آور - فوٹو: اسکرین گریب

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان پر فائرنگ کرنے والے مبینہ حملہ آور نے اس حملے کی وجہ بتادی۔


پولیس کی گرفت میں موجود حملہ آور نے بتایا کہ اس نے عمران خان پر اس لیے حملہ کیا کیونکہ وہ قوم کو گمراہ کر رہا تھا۔ 

اس کا کہنا تھا کہ یہ لوگوں کو گمراہ کر رہا تھا جو مجھے اچھا نہیں لگ رہا تھا، یہ اذان کے وقت اسپیکر بجا رہا تھا جو مجھے اچھا نہیں لگا۔

اس مبینہ حملہ آور کا کہنا تھا کہ جس دن سے یہ لاہور سے نکلے اس دن سے میں نے یہ سب سوچا ہوا تھا۔

 اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس نے اپنی فائرنگ کے دوران صرف اور صرف عمران خان کو مارنے کی کوشش کی تھی۔

حملہ آور سے پوچھا گیا کہ تمھارے پیچھے کتنے لوگ ہیں اس پر اس نے جواب دیا کہ وہ اکیلا ہے اور اس ساتھ کوئی نہیں ہے۔ 

اس نے یہ بھی بتایا کہ وہ بائیک پر آیا تھا اور اس نے اپنی بائیک اپنے ماموں کی دکان پر کھڑی کردی۔

عمران خان پر قاتلانہ حملہ

پنجاب کے شہر گوجرانوالہ کے اللّٰہ والا چوک پر پی ٹی آئی لانگ مارچ کے دوران عمران خان کے کنٹینر پر فائرنگ ہوئی۔

فائرنگ کے اس واقعے میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان زخمی ہوگئے، ان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہیں پیر پر گولی لگی ہے۔ 

چیئرمین تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان کے علاوہ ان کی جماعت کے دیگر رہنما بھی زخمی ہوئے ہیں۔ 

وزیراعظم شہباز شریف کی مذمت

وزیراعظم شہباز شریف نے سابق وزیراعظم عمران خان پر قاتلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ 

ساتھ ساتھ انہوں نے اس واقعے کے بعد اپنی پریس کانفرنس بھی منسوخ کردی تھی۔

’گولی میرے چہرے کو چھوتی ہوئی گزری‘

گوجرانوالہ میں عمران خان پر ہونے والی فائرنگ کے دوران سینیٹر فیصل جاوید بھی زخمی ہوگئے تھے۔ 

اپنے ویڈیو پیغام میں سینیٹر فیصل جاوید خان کا کہنا تھا کہ گولی میرے چہرے کو چھوتی ہوئی گزری۔

Comments