Skip to main content

"ایشیا میں سلطنتوں کا ارتقاء: 5000 قبل مسیح سے 2025 عیسوی تک"

ایشیا کی تاریخ: مختلف خطوں کا مجموعی احوال کوئٹہ: ایشیا کی تاریخ کو کئی مخصوص ساحلی خطوں کی مشترکہ تاریخ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جن میں مشرقی ایشیا، جنوبی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا اور مشرق وسطیٰ شامل ہیں۔ یہ تمام خطے یوریشین سٹیپ کے اندرونی وسیع و عریض حصے سے جڑے ہوئے ہیں۔ تاریخی ماہرین کے مطابق، ان خطوں کی تاریخ کو الگ الگ مگر باہم منسلک انداز میں سمجھنا ضروری ہے۔ ہر خطے نے اپنے منفرد ثقافتی، سیاسی اور سماجی ارتقاء سے ایشیا کی مجموعی تاریخ کو تشکیل دیا ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے، مشرق وسطیٰ کی تاریخ اور برصغیر کی تاریخ کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ خطے اپنے اندر تہذیبوں، سلطنتوں اور مذاہب کے عروج و زوال کی کہانیاں سمیٹے ہوئے ہیں، جو ایشیا کے وسیع تاریخی پس منظر کو مزید گہرا کرتی ہیں۔ مزید معلومعات جانیے کے لیے ویڈیو دیکھے !

سعدیہ راٹھور نے اپنی فنکاری کے ذریعے معاشرے کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے۔

 کوئٹہ بلوچستان کی ایک چمکتی ستارہ، سعدیہ راٹھور نے گیلری 6 کے زیر اہتمام چھٹے ارجمند ایوارڈ کا حصہ بن کر اپنی فنکاری کا جوہر دکھایا ہے۔ انہیں اس ایوارڈ کا حامل مقرر کیا گیا ہے جو کہ پاکستان کے 90 فن پاروں میں سے ان کے فن پارے کو منتخب کرنے والے چھ ممتاز فنکاروں کی جماعت نے دیا ہے۔ ان چھ فنکاروں میں ارفان گل دہری، مہر افروز، پروفیسر ڈاکٹر راحت نوید مسعود، رشم حسین سید، آر ایم نعیم اور سنا ارجمند شامل ہیں۔ اس ایوارڈ کے بانی ڈاکٹر ارجمند فیصل ہیں جنہوں نے سال 2015 سے یہ ایوارڈ شروع کیا ہے۔


‎سعدیہ راٹھور کا تعلق بلوچستان کے ضلع کچھی کے علاقے کولپور سے ہے جہاں انہوں نے اپنا بچپن گزارا۔ انہوں نے جامعہ بلوچستان سے فائن آرٹس میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی ہے اور تب سے انہوں نے اپنی فنکاری کو مزید نکھارا ہے۔ انہوں نے متعدد قومی ایوارڈز جیتے ہیں جن میں انا مولکا ایوارڈبھی شامل ہے جو کہ انہیں ستمبر 2023 میں دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے جون 2020 میں کوونٹ 19 انٹرنیشنل آرٹ ایگزیبیشن میں بھی شرکت کی ہے۔ اس ایگزیبیشن میں 16 ممالک کے 40 فنکاروں نے اپنے فن پارے دکھائے ہیں۔ ان تینوں اعزازات میں انہیں بلوچستان کی طرف سے واحد فنکار ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔




‎سعدیہ راٹھور نے اپنی فنکاری کے ذریعے معاشرے کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آرٹ کی کوئی زبان نہیں ہوتی۔ وہ بے زبان ہوکر بھی معاشرے کے ناہمواریوں اور احساسات کو بیان کرتا ہے۔ انہیں بلوچستان میں مختلف آرٹ اینڈ کرافٹ ایگزیبیشنز کے جیوری ممبر ہونےکا اعزاز بھی حاصل ہیں اور اپنے معاشرے کے بچوں کے حقوق کے لئے بھی کام کیا ہے۔ انہوں نے بلوچستان بھر میں خصوصی بچوں، پناہ گزین بچوں، دہشت گردی اور سیلاب سے متاثرہ بچوں کے لئے آرٹ اینڈ کرافٹ ورکشاپس منعقد کئے ہیں۔



‎سعدیہ راٹھور کی فنکاری کا مقصد ہے کہ وہ رنگوں کے ذریعے لوگوں میں شعور بیدار کریں اور انہیں معاشرتی برائیوں اور مسائل سے متعلق آگاہ کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی فنکاری کو ایک پیغام سمجھتی ہیں جو کہ ان کے اندر کے جذبات کا عکاس ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

History of Rajpoot/Rajput caste in Urdu/Hindi | راجپوت قوم کی تاریخ /राजपूत का इतिहास |

(Rajput Cast): A Rajput (from Sanskrit raja-putra, "son of a king") is a caste from the Indian subcontinent. The term Rajput covers various patrilineal clans historically associated with warriorhood: several clans claim Rajput status, although not all claims are universally accepted. The term "Rajput" acquired its present meaning only in the 16th century, although it is also anachronistically used to describe the earlier lineages that emerged in northern India from 6th century onwards. In the 11th century, the term "rajaputra" appeared as a non-hereditary designation for royal officials. Gradually, the Rajputs emerged as a social class comprising people from a variety of ethnic and geographical backgrounds. During the 16th and 17th centuries, the membership of this class became largely hereditary, although new claims to Rajput status continued to be made in the later centuries. Several Rajput-ruled kingdoms played a significant role in many regions of...

History of Awan Cast (اعوان قوم کی تاریخ ) In Urdu/Hindi

(Awan Cast): Awan (Urdu: اعوان‎) is a tribe living predominantly in northern, central, and western parts of Pakistani Punjab, with significant numbers also residing in Khyber Pakhtunkhwa, Azad Kashmir and to a lesser extent in Sindh and Balochistan. A People of the Awan community have a strong presence in the Pakistani Armyneed quotation to verify] and have a strong martial tradition.Christophe Jaffrelot says: The Awan deserve close attention, because of their historical importance and, above all, because they settled in the west, right up to the edge of Baluchi and Pashtun territory. [Tribal] Legend has it that their origins go back to Imam Ali and his second wife, Hanafiya. Historians describe them as valiant warriors and farmers who imposed their supremacy on their close kin the Janjuas in part of the Salt Range, and established large colonies all along the Indus to Sind, and a densely populated centre not far from Lahore . For More Details click the link & Watch the vide...

بلوچستان میں زمینی بندوبست اور ڈیجیٹل ریکارڈ: حکومت کی فوری توجہ درکار

  تحریر: صاحبزادہ عتیق اللہ خان  بلوچستان، جو پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، کئی دہائیوں سے بنیادی انتظامی مسائل کا شکار ہے۔ ان میں سب سے سنگین مسئلہ زمینی بندوبست (Land Settlement) اور اس کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن ہے، جس کی عدم موجودگی نہ صرف عوامی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ صوبے کی ترقی میں بھی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔برطانوی دورِ حکومت میں ہر 25 سال بعد زمینوں کی پیمائش، ملکیت کا تعین، اور مردم شماری کے تحت انتخابی حلقہ بندیوں کا نظام موجود تھا، مگر آزادی کے بعد اس عمل میں شدید کوتاہی برتی گئی۔ بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں گزشتہ 75 سالوں سے زمینوں کا کوئی بندوبست نہیں ہوا، جبکہ جو علاقے بندوبست کے عمل سے گزرے، ان کی تجدید بھی نہیں کی گئی۔یہ صورتحال حکومتی پالیسیوں اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور بورڈ آف ریونیو کے وزیر میر عامر گردگیلو کو فوری طور پر اس مسئلے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ بلوچستان کے زمینوں کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل کیا جائے اور بندوبست کا کام مکمل ہو۔ زمینی بندوبست میں تاخیر کے اثرات 1. عوامی مسائل * زمی...