وائس آف امریکہ کی بندش آزادیٔ صحافت پر حملہ، ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کی شدید مذمت – سید شاہ زیب رضا اور صاحبزادہ عتیق اللہ خان نورزئی کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر) اردو پوائنٹ کے بیورو چیف سید شاہ زیب رضا اور دلچسپ دنیا نیوز کے سی ای او و چیف ایڈیٹر صاحبزادہ عتیق اللہ خان نورزئی نے وائس آف امریکہ (VOA) کی پاکستان سمیت دیگر ممالک میں اچانک بندش کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے آزادیٔ صحافت پر سنگین حملہ قرار دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرتے ہوئے وائس آف امریکہ سمیت سات وفاقی اداروں کے حجم کو کم کرنے کا اعلان کیا، جس کے نتیجے میں یو ایس ایجنسی فار گلوبل میڈیا (USAGM) کے سینکڑوں ملازمین کو جبری طور پر فارغ کر دیا گیا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق، اس اقدام کا مقصد غیر ضروری اخراجات کو ختم کرنا ہے، کیونکہ امریکی حکومت "ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے اینٹی امریکن پروپیگنڈا" کی مالی مدد نہیں کرے گی۔ دفاتر سیل، صحافی بے دخل ٹرمپ کے فیصلے پر فوری عملدرآمد کرتے ہوئے پاکستان میں وائس آف امریکہ کے دفاتر کو اچانک بند کر دیا گیا، تمام عملے کو عمارت سے نکال دیا گیا اور انہیں یہاں ت...
وائس آف امریکہ کی بندش آزادیٔ صحافت پر حملہ، ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کی شدید مذمت – سید شاہ زیب رضا اور صاحبزادہ عتیق اللہ خان نورزئی
کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر) اردو پوائنٹ کے بیورو چیف سید شاہ زیب رضا اور دلچسپ دنیا نیوز کے سی ای او و چیف ایڈیٹر صاحبزادہ عتیق اللہ خان نورزئی نے وائس آف امریکہ (VOA) کی پاکستان سمیت دیگر ممالک میں اچانک بندش کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے آزادیٔ صحافت پر سنگین حملہ قرار دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرتے ہوئے وائس آف امریکہ سمیت سات وفاقی اداروں کے حجم کو کم کرنے کا اعلان کیا، جس کے نتیجے میں یو ایس ایجنسی فار گلوبل میڈیا (USAGM) کے سینکڑوں ملازمین کو جبری طور پر فارغ کر دیا گیا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق، اس اقدام کا مقصد غیر ضروری اخراجات کو ختم کرنا ہے، کیونکہ امریکی حکومت "ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے اینٹی امریکن پروپیگنڈا" کی مالی مدد نہیں کرے گی۔
دفاتر سیل، صحافی بے دخل
ٹرمپ کے فیصلے پر فوری عملدرآمد کرتے ہوئے پاکستان میں وائس آف امریکہ کے دفاتر کو اچانک بند کر دیا گیا، تمام عملے کو عمارت سے نکال دیا گیا اور انہیں یہاں تک کہ اسٹوڈیوز کی لائٹس بند کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔ افغانستان اور پاکستان میں چلنے والا مشہور ریڈیو چینل "دیوا" بھی اسی لمحے بند کر دیا گیا۔ ایک صحافی کے مطابق، انہیں اچانک ایک واٹس ایپ میسج موصول ہوا کہ وہ اب وائس آف امریکہ کے ملازم نہیں رہے، جبکہ اگلے دن کی رپورٹنگ کے لیے تمام منصوبہ بندی مکمل تھی۔
بین الاقوامی میڈیا کو نقصان
وائس آف امریکہ، جو جیو، ایکسپریس، دنیا اور آج ٹی وی پر پرائم ٹائم میں آدھے گھنٹے کا پروگرام نشر کرتا تھا، اس کی بندش سے ان چینلز کو بھی مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مزید برآں، اس ادارے کے ذریعے چلنے والے کئی بین الاقوامی نیوز نیٹ ورکس جیسے ریڈیو فری یورپ، ریڈیو فری ایشیا اور مشرق وسطیٰ براڈکاسٹنگ نیٹ ورکس بھی اس فیصلے سے متاثر ہوں گے۔
صحافتی تنظیموں کا ردعمل
پاکستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر محمد افضل بٹ نے بھی وائس آف امریکہ کی اچانک بندش کو آزادیٔ صحافت پر حملہ قرار دیا اور کہا کہ یہ امریکی حکومت کے جمہوری اصولوں کے برخلاف ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بڑے اداروں کو بغیر کسی نوٹس کے بند کیا جانے لگا تو یہ عمل دنیا بھر میں صحافتی برادری کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
شدید مذمت
سید شاہ زیب رضا اور صاحبزادہ عتیق اللہ خان نورزئی نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ اقدام آزادیٔ صحافت کے لیے ایک سیاہ دن کی حیثیت رکھتا ہے۔ وائس آف امریکہ ایک معتبر نشریاتی ادارہ تھا، جس نے ہمیشہ معیاری اور غیر جانبدار صحافت کو فروغ دیا۔ اس کی بندش نہ صرف میڈیا انڈسٹری بلکہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔
انہوں نے عالمی صحافتی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف آواز بلند کریں اور آزادیٔ صحافت کے تحفظ کے لیے اقدامات کریں۔ مزید برآں، امریکی حکومت سے بھی اپیل کی کہ وہ اس غیر جمہوری فیصلے پر نظرثانی کرے اور بین الاقوامی میڈیا کی آزادی کو یقینی بنائے۔
Comments
Post a Comment