Skip to main content

"ایشیا میں سلطنتوں کا ارتقاء: 5000 قبل مسیح سے 2025 عیسوی تک"

ایشیا کی تاریخ: مختلف خطوں کا مجموعی احوال کوئٹہ: ایشیا کی تاریخ کو کئی مخصوص ساحلی خطوں کی مشترکہ تاریخ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جن میں مشرقی ایشیا، جنوبی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا اور مشرق وسطیٰ شامل ہیں۔ یہ تمام خطے یوریشین سٹیپ کے اندرونی وسیع و عریض حصے سے جڑے ہوئے ہیں۔ تاریخی ماہرین کے مطابق، ان خطوں کی تاریخ کو الگ الگ مگر باہم منسلک انداز میں سمجھنا ضروری ہے۔ ہر خطے نے اپنے منفرد ثقافتی، سیاسی اور سماجی ارتقاء سے ایشیا کی مجموعی تاریخ کو تشکیل دیا ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے، مشرق وسطیٰ کی تاریخ اور برصغیر کی تاریخ کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ خطے اپنے اندر تہذیبوں، سلطنتوں اور مذاہب کے عروج و زوال کی کہانیاں سمیٹے ہوئے ہیں، جو ایشیا کے وسیع تاریخی پس منظر کو مزید گہرا کرتی ہیں۔ مزید معلومعات جانیے کے لیے ویڈیو دیکھے !

وائٹر اینڈ سینٹیشن نیٹ ورک میٹنگ کا انعقاد

 

وائٹر اینڈ سینٹیشن نیٹ ورک میٹنگ کا انعقاد، سوشل آڈٹ گروپس کی کارکردگی پر تفصیلی تبادلہ خیال


کوئٹہ (دلچسپ دنیا نیوز) HOPE فاؤنڈیشن اور FANSA نیٹ ورک کے اشتراک سے "وائٹر اینڈ سینٹیشن نیٹ ورک میٹنگ" کا کامیاب ایک روزہ انعقاد کیا گیا۔ اس میٹنگ کا مقصد جنوبی ایشیا میں ایس ڈی جی 6 کے اہداف کے حصول کے لیے سول سوسائٹی نیٹ ورکس کو مزید فعال اور مضبوط بنانا تھا۔ یہ اہم پروگرام بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے تعاون سے منعقد ہوا۔


میٹنگ کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد HOPE بلوچستان کے سی ای او حاجی کریم بلوچ نے شرکاء کو خوش آمدید کہا۔ تعارفی سیشن نیشنل پروجیکٹ کوآرڈینیٹر جناب ظہور احمد بارکزئی نے پیش کیا، جبکہ نظامت کے فرائض محترمہ عنم ملک مینگل نے انجام دیے۔


اجلاس کے دوران سوشل آڈٹ گروپس کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور R4R منصوبے کے تحت ایکشن پلانز کی تیاری پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء کو چائے، نماز اور کھانے کے وقفے بھی دیے گئے۔


اس اجلاس میں HOPE فاؤنڈیشن کے عہدیداران اور مختلف سماجی نمائندگان شریک ہوئے، جن میں گل نصیر، سوشل ایکٹیوسٹ بہرام لہڑی، سینئر صحافی بہرام بلوچ، پروفیسر صادق سمالانی، نیلم، شیزان ویلیم ، ریاض بلوچ، حسین، وحید بلوچ، شعیب اور صاحبزادہ عتیق خان شامل تھے۔


آخر میں ظہور احمد نے آئندہ کے لائحہ عمل پر روشنی ڈالتے ہوئے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

Comments